اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. باب الاعتناء بحفظ العورة
باب: ستر ڈھانپنے میں احتیاط رکھنا
حدیث نمبر: 195
195 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ؛ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَللْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ؛ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذلِكَ عُرْيانًا/ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نبوت سے پہلے) کعبہ کی تعمیر کے لیے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند باندھے ہوئے تھے، آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بھتیجے! کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے؟ (تا کہ تم پر آسانی ہو جائے)۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا، اسی وقت غش کھا کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 8 باب كراهية التعري في الصلاة وغيرها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 195 in Urdu