اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان
حدیث نمبر: 207
207 صحيح حديث عَمَّارٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسى لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ المَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ (فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا) فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ أَنْ يَتَيَمَّموا الصَّعِيدَ قُلْتُ: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هذَا لِذَا قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ أَبُو مُوسى: أَلَمْ تَسْمَع قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَر: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَما تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هكَذَا؛ فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شَمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَه فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے (اور نماز موقوف رکھے)۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر سورہ مائدہ کی اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کا کیا مطلب ہو گا کہ ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو“؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلدی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا: تو آپ نے جنبی کے لیے تیمم اس لیے برا جانا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا، سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی لیکن پانی نہیں ملا اس لیے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے صرف اتنا کرنا کافی تھا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم: 8 باب التيمم ضربة»
وضاحت: جنابت، حیض اور نفاس کی وجہ سے (فرض غسل سے) تیمم کرنے کے جائز ہونے پر متاخرین اور خلف کا اتفاق ہے اور سلف کا بھی اتفاق تھا مگر سوائے حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے، کہ ان سے عدم جواز کا قول منقول ہے جب کہ حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م کا اس مسئلہ میں رجوع بھی منقول ہوا ہے باقی اس مسئلہ کے جواز میں صحیح احادیث منقول ہیں جن کے مقابلے میں کسی کی بات قابل اعتناء نہیں سمجھی جا سکتی۔ روای حدیث: حضرت عمار بن یساء رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ تھا۔ آپ کے والد اور والدہ کو اللہ کی راہ میں بڑی اذیتیں دی گئیں۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرتے تو فرماتے اے یاسر کی اولاد صبر کرو یقینا تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔ غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں بھی شریک رہے۔ جنگ یمامہ میں حاضر ہوئے تو ان کے کان کاٹ لئے گئے۔ پھر حضرت عمر کے زمانہ میں کوفہ کے عامل رہے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 207 in Urdu