اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
حدیث نمبر: 235
235 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا: لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ؛ قَالَ: ضُعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ: فَفَعَلْنَا، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ؛ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا: لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ: فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا: لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ؛ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا: يَا عُمَر صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عُمرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّام ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، لِصَلاَةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؛ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْر ذَهَبَ لِيَتأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ؛ قَالَ: أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَاتِ؛ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لاَ؛ قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں (تو اچھا ہوتا)۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے لیکن آپ بے ہوش ہو گئے، جب ہوش ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے عرض کی: نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا: ”لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل فرمایا، پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن (دوبارہ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو گئے، جب ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں، بھیجے ہوئے آدمی نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے) آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ آخر (بیماری کے) دنوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر، جن میں ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مردوں سے فرمایا: ”مجھے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے بازو میں بٹھا دو۔“ چنانچہ دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے، کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ، میں نے یہ حدیث ان کو سنا دی، انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 51 باب إنما جعل الإمام ليؤتم به»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 235 in Urdu