اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
144. باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام
باب: نماز میں تمام ارکان اعتدال سے پورے کرنے اور نماز کو ہلکا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 273
273 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّي بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ ثَابِتٌ (راوي هذَا الْحَدِيثِ) كَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ؛ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، حَتَّى يَقولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں، ثابت (حدیث کے راوی) نے بیان کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 140 باب المكث بين السجدتين»
وضاحت: حضرت امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صد افسوس کہ لوگوں نے اس سنت کو جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، چھوڑ رکھا ہے حتیٰ کہ ان کے محدث، فقیہ، مجتہد اور مقلد سب ہی اس سنت کے تارک نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لیے ان لوگوں نے کون سا بہانہ بنا رکھا ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 273 in Urdu