🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
146. باب ما يقال في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا پڑھنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
275 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَلُ الْقُرْآنَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ، اے ہمارے رب! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے“ (اس دعا کو پڑھ کر) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 139 باب التسبيح والدعاء في السجود»
وضاحت: سورۂ نصر کے حکم (اپنے رب کی پاکی بیان کر اور اس سے بخشش مانگ) کی روشنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں مذکورہ دعا پڑھا کرتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”اے اللہ تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں، اے اللہ! تو مجھ کو بخش دے۔“ اس دعا میں تسبیح، تحمید اور استغفار تینوں موجود ہیں۔ اس لیے رکوع اور سجدے میں اس کا پڑھنا افضل ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 275 in Urdu