🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
157. باب النهي عن بناء المساجد على القبور
باب: قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
305 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَة وَأُمَّ سَلَمَةَ ذكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ، فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا ذلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُولئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں مورتیں تھیں، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں بنا دیتے، یہ لوگ خدا کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 48 باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 305 in Urdu