اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب تفاضل أهل الإيمان فيه ورجحان أهل اليمن فيه
باب: اہل ایمان کا ایمان ایک دوسرے سے کم زیادہ ہونا اور یمن کے لوگوں کا ایمان زیادہ ہونا
حدیث نمبر: 31
31 صحيح حديثُ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبي مَسْعودٍ قَالَ: أَشارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقالَ: الإِيمانُ يَمانٍ هَهنا، أَلا إِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ في الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصولِ أَذْنابِ الإِبْلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنا الشَّيْطانِ في رَبيعَةَ وَمُضَرَ
سیدنا عقبہ بن عمرو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”ایمان تو ادھر ہے یمن میں، ہاں! اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو مسعود انصاری تھی۔ لیلۃ العقبہ میں شریک تھے۔ امام بخاری کے بقول بدری صحابی ہیں۔ لیکن امام ذہبی نے لکھا ہے کہ بدر میں شامل نہیں تھے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۴۰ہجری سے قبل وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 31 in Urdu