اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
170. باب نهي من أكل ثومًا أو بصلاً أو كراثًا أو نحوها
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا اسی طرح کی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنا ممنوع ہے
حدیث نمبر: 333
333 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے، تو وہ ہم سے دور رہے“ یا (یہ کہا کہ اسے) ”ہماری مسجد سے دور رہنا چاہیے یا اسے اپنے گھر ہی میں بیٹھنا چاہیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کئی قسم کی ہری ترکاریاں تھیں (پیاز یا گندنا بھی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی اور اس کے متعلق دریافت کیا، اس سالن میں جتنی ترکاریاں ڈالی گئی تھیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی گئیں۔ وہاں ایک صحابی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف یہ سالن بڑھا دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا اور فرمایا: ”تم لوگ کھا لو، میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 333 in Urdu