🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
171. باب السهو في الصلاة والسجود له
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 337
337 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدِّمِ الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا؛ وَفِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلاَةُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ كَان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنَسِيت أَمْ قَصُرَتْ، فَقَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرْ، قَالُوا: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے آگے کے حصے یعنی دالان میں ایک لکڑی پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے مگر بات کرنے سے ڈرے اور جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے، صحابہ نے آپس میں کہا کہ شاید نماز میں کمی ہو گئی ہے (اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز چار کے بجائے صرف دو ہی رکعت پڑھائی ہیں)، حاضرین میں ایک صحابی تھے جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین (لمبے ہاتھوں والا) کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! نماز کی رکعات کم ہو گئی ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعات کم ہوئی ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ بھول گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد کر کے فرمایا کہ: ”ذوالیدین نے صحیح کہا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعات اور پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہہ کر سجدہ (سہو) میں گئے، نماز کے سجدے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پھر سجدے میں گئے، پہلے سجدے کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 45 باب ما يجوز من ذكر الناس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 337 in Urdu