اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
174. باب استحباب التعوذ من عذاب القبر
باب: قبر کے عذاب سے پناہ مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 343
343 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي، إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا؛ فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْت لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَجُوزَيْنِ، وَذَكَرْتُ لَهُ؛ فَقَال: صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلاَةٍ إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہوگا، لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی تصدیق نہ کر سکی، پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دو بوڑھی عورتیں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے صحیح کہا، قبر والوں کو عذاب ہوگا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے۔“ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 37 باب التعوذ من عذاب القبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 343 in Urdu