اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
176. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته
باب: نماز کے بعد کونسا ذکر مستحب ہے اور اس کا طریقہ
حدیث نمبر: 348
348 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلاَ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، يُصَلُّونَ كمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُم فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ، وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ قَالَ: أَلاَ أُحَدِّثكُمْ بِمَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ، وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، إِلاَّ مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتكبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا نُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: تَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ للهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نادار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر چکے، حالانکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں، لیکن مال و دولت کی وجہ سے انہیں ہم پر فوقیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں، جہاد کرتے ہیں اور صدقے دیتے ہیں (اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے)۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پا لو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوائے ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں؛ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح ( «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“)، تحمید ( «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“) اور تکبیر ( «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“) کہا کرو۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) پھر ہم میں اختلاف ہو گیا، کسی نے کہا کہ ہم تسبیح تینتیس مرتبہ، تحمید تینتیس مرتبہ اور تکبیر چونتیس مرتبہ کہیں گے؛ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو، تا آنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 155 باب الذكر بعد الصلاة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 348 in Urdu