اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
206. باب جواز الانصراف من الصلاة عن اليمين والشمال
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 412
412 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لاَ يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ (سلام پھیرنے کے بعد) دائیں طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 195 باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال»
وضاحت: جب مباح کام لازم قرار دینے سے شیطان کا حصہ سمجھا جائے تو جو کام مکروہ یا بدعت ہے اس کو کوئی لازم قرار دے لے اور اس کے نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ستائے تو اس پر شیطان کا کیا تسلط ہے، سمجھ لینا چاہیے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 412 in Urdu