اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
213. باب جواز النافلة قائما وقاعدا وفعل بعض الركعة قائما وبعضها قاعدا
باب: نفل کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 425
425 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا، وَهْوَ قَائمٌ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذلِكَ، فَإِذَا قَضَى صَلاَتَهُ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائمَةً اضْطَجَعَ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرأت بیٹھ کر کرتے، جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ بھی لیٹ جاتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 20 باب: إذا صلى قاعدا ثم صح أو وجد خفة تمّم ما بَقِي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 425 in Urdu