اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
220. باب ما روي فيمن نام الليل أجمع حتى أصبح
باب: اس آدمی کا بیان جو پوری رات صبح تک سوتا ہے
حدیث نمبر: 443
443 صحيح حديث عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَيْلَةً، فَقَالَ: أَلاَ تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: (وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟“ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا، ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر ہاتھ مار کر (سورہ کہف کی یہ آیت) پڑھ رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] ”آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 5 باب تحريض النبي صلی اللہ علیہ وسلم على صلاة الليل والنوافل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 443 in Urdu