🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
221. باب استحباب صلاة النافلة في بيته وجوازها في المسجد
باب: نفل نماز مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے لیکن گھر میں پڑھنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
447 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْزَةً، مِنْ حَصِيرٍ، في رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الْمَكْتُوبَة
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں بوریے کا ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی رات اس میں نماز پڑھی، صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی)، پھر برآمد ہوئے اور فرمایا: ”تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنا ضروری ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 81 باب صلاة الليل»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو سعید اور ابو حارثہ تھی۔ بہت بڑے امام اور علم فرائض میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ مدینے کے مفتی تھے۔ کاتب وحی تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ حج پر جاتے تو انہیں مدینے میں اپنا جانشین بنا کر جاتے تھے۔ ہجرت کے موقعہ پر گیارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ سورتوں کی تلاوت فرمائی تو انہوں نے ان سورتوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوت حافظہ پر تعجب کیا۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پندرہ دنوں میں سریانی زبان لکھنا اور پڑھنا سیکھی تھی۔ سیّدنا ابو بکر صدیق اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کے موقع پر جو کمیٹی قائم کی تھی آپ اس کے سربراہ تھے۔ آپ نے ۵۶ برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں ۴۵ھ کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 447 in Urdu