🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
226. باب نزول السكينة لقراءة القرآن
باب: قراء ت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 458
458 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ الدَّابَّةُ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَسَلَّمَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ غَشِيَتْهُ؛ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ اقْرَأْ فُلاَن فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی (سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ) نے (نماز میں) سورہ کہف کی تلاوت کی، اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا، گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا (سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے ادھر خیال نہ کیا، اس کو خدا کے سپرد کیا)، اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے، اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھتا ہی رہتا کیونکہ یہ سکینت ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی (یا یہ کہا) نازل ہو رہی تھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
وضاحت: سکینہ کا مختار معنی یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء میں سے ایک چیز ہے جس میں اطمینان اور رحمت پائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ فرشتے بھی اترتے ہیں۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 458 in Urdu