🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
236. باب الأوقات التي نهى عن الصلاة فيها
باب: نماز کے ممنوعہ اوقات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
473 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میرے سامنے چند معتبر حضرات نے گواہی دی، جن میں سب سے زیادہ معتبر میرے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 30 باب الصلاة بعد الفجر حتى ترتفع الشمس»
وضاحت: دن اور رات میں کچھ وقت ایسے ہیں جن میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ سورج نکلتے وقت ٹھیک دو پہر میں (جب سورج سر پر ہو) اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک اور فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک۔ ہاں اگر کوئی فرض نماز قضا ہوگئی ہو تو اس کا پڑھ لینا جائز ہے۔ اور فجر کی سنتیں بھی اگر نماز سے پہلے نہ پڑھی جا سکی ہوں تو ان کو بھی فجر کے فرضوں کے بعد پڑھا جا سکتا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 473 in Urdu