اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
240. باب صلاة الخوف
باب: نمازخوف کا بیان
حدیث نمبر: 484
484 صحيح حديث جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ: تَخَافُنِي قَالَ: لاَ قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ: اللهُ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ؛ وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے، پھر ہم ایک ایسی جگہ آئے جہاں بہت گھنے سایہ کا درخت تھا، وہ درخت ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کہ آپ وہاں آرام فرمائیں، بعد میں مشرکین میں سے ایک شخص آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی، اس نے وہ تلوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ لی اور پوچھا: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نہیں“، اس پر اس نے پوچھا: آج میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ“، پھر صحابہ نے اسے ڈانٹا دھمکایا اور نماز کی تکبیر کہی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک جماعت کو دو رکعت نمازِ خوف پڑھائی، جب وہ جماعت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے) ہٹ گئی تو آپ نے دوسری جماعت کو بھی دو رکعت نماز پڑھائی، اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت نماز ہوئی لیکن مقتدیوں کی صرف دو دو رکعت۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 31 باب غزوة ذات الرقاع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 484 in Urdu