اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
241. باب الجمعة
باب: جمعہ کا بیان
حدیث نمبر: 486
486 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَمَا هُوَ قَائمٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرينَ الأَوَّلَينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ عُمَرُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هذِهِ قَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذينَ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی اصحاب مہاجرین میں سے ایک بزرگ تشریف لائے (یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بھلا یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں مشغول ہو گیا تھا اور گھر واپس آتے ہی اذان کی آواز سنی، اس لیے میں وضو سے زیادہ اور کچھ (غسل) نہ کر سکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا (صرف) وضو ہی؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے حکم فرماتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 2 باب فضل الغسل يوم الجمعة»
وضاحت: من المہاجرین الاولین، یعنی جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا بیعت رضوان میں شامل تھے یا جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ اور رجل سے مراد سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 486 in Urdu