اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
253. باب صلاة العيدين
باب: نماز عیدین کا بیان
حدیث نمبر: 510
510 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدأُ بِهِ الصَّلاَةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُريدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا، قَطَعَهُ؛ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ، أَمَرَ بِهِ؛ ثُمَّ يَنْصَرِف قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ، وَهُوَ أَميرُ الْمَديِنةِ، فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُريدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ، فَجَبَذَنِي، فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ؛ فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللهِ فَقَالَ: أَبَا سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ؛ فَقُلْتُ: مَا أَعْلَمُ، وَاللهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن (مدینہ کے باہر) عید گاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے، تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے، اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے، کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے، اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا، میں اس کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے نکلا، ہم جب عید گاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا، جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے (خطبہ دینے کے لیے) چڑھے، اس لیے میں نے اس کا دامن پکڑ کر کھینچا لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا، میں نے اس سے کہا کہ واللہ! تم نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو) بدل دیا، مروان نے کہا کہ اے ابو سعید! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو، ابو سعید نے کہا کہ بخدا! میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا، مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 6 باب الخروج إلى المصلى بغير منبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 510 in Urdu