🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
261. باب صلاة الكسوف
باب: نماز کسوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
521 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَع رُكوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ؛ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِثْلَ ذلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ؛ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَةِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا، اسی وقت آپ مسجد میں تشریف لے گئے، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی، آپ نے تکبیر کہی اور بہت دیر قرآن مجید پڑھتے رہے، پھر تکبیر کہی اور بہت دیر لمبا رکوع کیا، پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہہ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا (رکوع سے اٹھنے کے بعد)، پھر بہت دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے لیکن پہلی قراءت سے کم، پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، یہ رکوع بھی پہلے سے کم تھا، اب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہا، پھر سجدے میں گئے، آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، (ان دونوں رکعات میں) پورے چار رکوع اور چار سجدے کیے، نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو چکا تھا، نماز کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں، ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا، لیکن جب تم گرہن دیکھا کرو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 4 باب خطبة الإمام في الكسوف»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 521 in Urdu