🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
262. باب ذكر عذاب القبر في صلاة الخسوف
باب: نماز خسوف میں قربان کے عذاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
523 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائَشَةُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ ظَهْرَانَي الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرَّكوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لیے آئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب بھی ہو گا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر ایک مرتبہ صبح کو (کہیں جانے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، اس کے بعد سورج گرہن لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے واپس ہوئے اور اپنی بیویوں کے حجروں سے گزرتے ہوئے (مسجد میں) نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، صحابہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نیت باندھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی لمبا قیام کیا، پھر رکوع بھی بہت طویل کیا، اس کے بعد کھڑے ہوئے اور اب کی دفعہ قیام پھر لمبا کیا لیکن پہلے سے کچھ کم، پھر رکوع کیا اور اس دفعہ بھی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوبارہ کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک قیام کیا لیکن پہلے قیام سے کچھ کم، پھر ایک لمبا رکوع کیا لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قیام میں اب کی دفعہ بھی بہت دیر تک رہے لیکن پہلے سے کم وقت تک (چوتھی مرتبہ)، پھر رکوع کیا اور بہت دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر، رکوع سے سر اٹھایا تو سجدہ میں چلے گئے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز پوری کر لی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ: ”عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 7 باب التعوذ من عذاب القبر في الكسوف»
وضاحت: بعض روایتوں میں ہے کہ جب یہودیہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے عذاب قبر کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا چلو! قبر کا عذاب یہودیوں کو ہو گا، مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق۔ لیکن اس یہودیہ کے ذکر پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھااور آپ نے اس کا حق ہونا بتایا۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 523 in Urdu