اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب بيان الكبائر وأكبرها
باب: کبیرہ گناہوں اور ان میں بڑے گناہوں کا بیان
حدیث نمبر: 54
54 صحيح حديث أَبي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبائِرِ ثَلاثًا، قَالُوا: بَلى يا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الإِشْراكُ بِاللهِ وَعُقوقُ الْوالِدَيْنِ وَجَلَسَ، وَكانَ مُتَّكِئًا، فَقالَ أَلا وَقَوْلُ الزّورِ قَالَ فَما زَالَ يُكَرِّرُها حَتّى قُلْنا لَيْتَهُ سَكَتَ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟“ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ”ہاں اور جھوٹی گواہی بھی۔“ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ ہم کہنے لگے: کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 52 كتاب الشهادات: 10 باب ما قيل في شهادة الزور»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ ہے اور اپنی کنیت سے معروف ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، اور فرمایا کرتے تھے کہ میں تمہارا دینی بھائی ہوں۔ بڑے عبادت گزار تھے۔ بصرہ میں زندگی بسر کی۔ بڑے مالدار اور کثیر اولاد والے تھے۔ ۵۱ہجری میں وفات پائی ابو برزہ اسلمی صحابی نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 54 in Urdu