اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
270. باب في غسل الميت
باب: میت کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 544
544 صحيح حديث أُمَّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا اذنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما) کی وفات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو، غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دینا۔“ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار (تہبند) دیا اور فرمایا: ”اسے ان کی قمیص بنا دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 8 باب غسل الميت ووضوئه بالماء والسدر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 544 in Urdu