اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
284. باب زكاة الفطر على المسلمين من التمر والشعير
باب: مسلمانوں پر کھجور اور جو سے صدقہ فطر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 571
571 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ رضي الله عنه: فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کی زکاۃ فطر“ دینے کا حکم فرمایا تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے اسی کے برابر دو مد (آدھا صاع) گیہوں کر لیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 74 باب صدقة الفطر صاعًا من تمر»
وضاحت: صحیح مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زکوٰۃ بلکہ اس کا دوگنا روپیہ میں دوں گا۔ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ دو برس کی زکوٰۃ پیشگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان تحصیل کرنے والوں کو زکوٰۃ نہ دی۔ بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ بالفعل ان کو مہلت دو۔ سال آئندہ ان سے دوہری یعنی دو برس کی زکوٰۃ وصول کرنا۔(مختصر ازوحیدی)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 571 in Urdu