اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
291. باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد والوالدين ولو كانوا مشركين
باب: والدین اولاد، اہل خانہ اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں
حدیث نمبر: 584
584 صحيح حديث زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللهِ، وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللهِ، سَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامِي فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ، حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي؛ فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلاَلٌ، فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي وَقُلْنَا: لاَ تُخْبِرْ بِنَا فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَنْ هُمَا قَالَ: زَيْنَبُ قَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ: امْرَأَة عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ وأَجْرُ الصَّدَقَةِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”صدقہ کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔“ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنا صدقہ اپنے شوہر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں، اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں؟ لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو، آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں (جو سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا تھیں)۔ پھر ہمارے سامنے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گزرے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجیے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنے زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں؟ ہم نے بلال رضی اللہ عنہ سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا، وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں کون ہیں؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینب؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! بے شک درست ہے اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا، ایک قرابتداری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 48 باب الزكاة على الزوج والأيتام في الحجر»
وضاحت: ٭سیدہ زینب بنت معاویہ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے خاوند اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے۔ متعدد احادیث کی راویہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 584 in Urdu