اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
316. باب تخوف ما يخرج من زهرة الدنيا
باب: دنیا کی پر فریب زینت سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 626
626 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلاَ يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ؛ فَقَالَ: إِنَّهُ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَو يُلِمُّ، إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضْرَاءِ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا اْمتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَت وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ، وَإِنَّ هذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا کی خوشحالی اور اس کی زیبائش و آرائش کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اچھائی برائی پیدا کرے گی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، اس لیے اس شخص سے کہا جانے لگا کہ کیا بات تھی، تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات پوچھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بات نہیں کرتے؟ پھر ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پسینہ صاف کیا (جو وحی نازل ہوتے وقت آپ کو آنے لگتا تھا) پھر پوچھا: ”سوال کرنے والے صاحب کہاں ہیں؟“ ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے (سوال کی) تعریف کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھائی برائی نہیں پیدا کرتی (مگر بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے)، کیونکہ موسم بہار میں بعض ایسی گھاس بھی اگتی ہے جو جان لیوا یا تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے، البتہ ہریالی چرنے والا وہ جانور بچ جاتا ہے جو خوب چرتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو سورج کی طرف رخ کر کے پاخانہ پیشاب کر دیتا ہے اور پھر چرتا ہے۔ اسی طرح یہ مال و دولت بھی ایک خوشگوار سبزہ زار ہے اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو مسکین، یتیم اور مسافر کو دیا جائے“، یا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! اگر کوئی شخص زکاۃ حقدار ہونے کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور قیامت کے دن یہ مال اس کے خلاف گواہ ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 47 باب الصدقة على اليتامى»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 626 in Urdu