🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
321. باب إِعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام وتصبر من قوى إِيمانه
باب: تالیف قلب کے لیے دینے اور قوی الایمان والوں کے صبر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 635
635 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلاَفٍ وَالطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا قَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ لَبَّيْكَ، نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالُوا؛ فَدَعَاهُمْ فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لاَخْتَرْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین میں جب قبیلہ ہوازن سے جنگ شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار فوج تھی، قریش کے وہ لوگ بھی ساتھ تھے جنہیں فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا، پھر سب نے پیٹھ پھیر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: ”اے انصاریو!“ انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ! آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے سامنے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر گئے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پھر مشرکین کو شکست ہو گئی، جن لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا لیکن انصار کو کچھ نہیں دیا، اس پر انصار نے اپنے غم کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ایک خیمہ میں جمع کیا، پھر فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ بکری اور اونٹ اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 635 in Urdu