اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
334. باب بيان أن الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر، وأن له الأكل وغيره حتى يطلع الفجر وبيان صفة الفجر الذي تتعلق به الأحكام من الدخول في الصوم، ودخول وقت صلاة الصبح وغير ذلك
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اس سے پہلے آدمی کھا پی سکتا ہے اور اس فجر کا بیان جس سے روزہ کے احکام متعلق ہیں اور صبح کی نماز کے وقت کا آغاز وغیرہ
حدیث نمبر: 660
660 صحيح حديث عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ) عَمَدْتُ إِلَى عِقَالٍ أَسْوَدَ، وَإِلَى عِقَالٍ أَبْيَضَ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّيْلِ فَلاَ يَسْتَبِينُ لِي، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت ﴿تاآنکہ کھل جائے تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے﴾ [سورة البقرة: 187] نازل ہوئی تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ لیا اور ایک سفید اور دونوں کو تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات میں دیکھتا رہا، مجھ پر ان کے رنگ نہ کھلے، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا: ”اس سے تو رات کی تاریکی (صبح کاذب) اور دن کی سفیدی (صبح صادق) مراد ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري: 30 كتاب الصوم: 16 باب قول الله تعالى (وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 660 in Urdu