🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب بيان غلظ تحريم قتل الإِنسان نفسه وأن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار، وأنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة
باب: خود کشی کی سخت حرمت اور خود کشی کرنے والے کا عذاب جہنم میں مبتلا ہونا اور جنت میں سوائے مسلمان کے کسی کا نہ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 71
71 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: شَهِدْنا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَقالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَدَّعِي الإِسْلامَ: هذا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلَمّا حَضَرَ الْقِتالُ قاتَلَ الرَّجُلُ قِتالاً شَديدًا فَأَصابَتْهُ جِراحَةٌ، فَقِيلَ يا رَسُولَ اللهِ الَّذِي قُلْتَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّه قَدْ قاتَلَ الْيَوْمَ قِتالاً شَدِيدًا، وَقَدْ مَاتَ، فَقالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلى النَّارِ قَالَ فَكادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتابَ؛ فَبَيْنَما هُمْ عَلى ذلِكَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلكِنَّ بِهِ جِراحًا شَدِيدًا، فَلَمّا كانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلى الْجِراحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذلِكَ، فَقالَ: اللهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالاً فَنادى في النَّاسِ: إِنَّه لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هذا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفاجِرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں موجود تھے، آپ نے ایک شخص کے متعلق جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا، فرمایا: ”یہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے۔“ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ شخص (مسلمانوں کی طرف سے) بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور وہ زخمی بھی ہو گیا، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخ میں جائے گا، آج تو وہ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑا ہے اور (زخمی ہو کر) مر بھی گیا ہے۔ آپ نے اب بھی وہی جواب دیا: ”جہنم میں گیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہو جاتا، لیکن ابھی لوگ اسی غور و فکر میں تھے کہ کسی نے بتایا کہ ابھی وہ مرا نہیں ہے، البتہ زخم کاری ہے۔ پھر جب رات آئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا: ”مسلمان کے سوا جنت میں کوئی اور داخل نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے دین کی امداد کسی فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 182 باب إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر»
وضاحت: کیونکہ وہ مسلمان ہو چکا ہے جس کا خون محفوظ ہے۔ اور اسلام اس غلطی پر غالب آگیا ہے جو اس نے تیرا ہاتھ کاٹا تھا۔ یعنی قصاص کی وجہ سے تیرا خون بہانا جائز ہوگیا ہے۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 71 in Urdu