اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب بيان غلظ تحريم قتل الإِنسان نفسه وأن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار، وأنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة
باب: خود کشی کی سخت حرمت اور خود کشی کرنے والے کا عذاب جہنم میں مبتلا ہونا اور جنت میں سوائے مسلمان کے کسی کا نہ جانا
حدیث نمبر: 73
73 صحيح حديث جُنْدُبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ، فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِها يَدَهُ فَما رَقَأَ الدَّمُ حَتّى مَاتَ، قَالَ اللهُ تَعالَى بادَرَنِي عَبْدي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھلے زمانے میں ایک شخص (کے ہاتھ میں) زخم ہو گیا تھا اور اسے اس سے بڑی تکلیف تھی، آخر اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بہنے لگا اور اسی سے وہ مر گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی اس لیے میں نے بھی جنت کو اس پر حرام کر دیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا جندب بن عبداللہ بن سفیان رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اپنے دادا کی طرف منسوب ہوتے تھے۔ کوفہ اور بصرہ میں رہائش پذیر رہے۔ انہیں جندب الخیر، جندب الفاروق اور جندب ابن ام جندب بھی کہا جاتا ہے۔ ۶۴ ہجری کوفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 73 in Urdu