🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
369. باب تحريم الصيد للمحرم
باب: محرم کے لیے جنگلی شکار کی حرمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 744
744 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي، عَامَ الحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ، تَضَحَّكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ، وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُوني، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيت رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ؛ قُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهنَ، وَهُوَ قَايِلٌ السُّقْيَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میرے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) صلح حدیبیہ کے موقع پر (دشمنوں کا پتہ لگانے) نکلے، پھر ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھ لیا لیکن (خود انہوں نے ابھی) نہیں باندھا تھا، (اصل میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے یہ اطلاع دی تھی کہ (مقام غیقہ میں) دشمن آپ کی تاک میں ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور چند صحابہ کو ان کی تلاش میں) روانہ کیا، میرے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگے، (میرے والد نے بیان کیا کہ) میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ ایک جنگلی گدھا سامنے ہے، میں اس پر جھپٹا اور نیزے سے اسے ٹھنڈا کر دیا، میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد چاہی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا، پھر ہم نے گوشت کھایا، اب ہمیں یہ ڈر ہوا کہ کہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) دور نہ رہ جائیں، چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا، کبھی اپنے گھوڑے تیز کر دیتا اور کبھی آہستہ، آخر رات گئے بنو غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہو گئی، میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ جب میں آپ سے جدا ہوا تو آپ مقام تعہن میں تھے اور آپ کا ارادہ تھا کہ مقام سقیا میں پہنچ کر دوپہر کا آرام کریں گے، (غرض میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا) اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتے ہیں، انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں، اس لیے آپ ٹھہر کر ان کا انتظار کریں، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا تھا اور اس کا کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی میرے پاس موجود ہے، آپ نے لوگوں سے کھانے کے لیے فرمایا حالانکہ وہ سب محرم تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 744]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 2 باب إذا صاد الحلال فأهدى للمحرم الصيد أكله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 744 in Urdu