اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
376. باب بيان وجوه الإحرام وأنه يجوز إِفراد الحج والتمتع والقران وجواز إِدخال الحج على العمرة، ومتى يحل القارن من نسكه
باب: احرام کی قسموں کا بیان حج مفرد۔ تمتع اور قران اور عمرے کے ساتھ حج کو شامل کیا جا سکتا ہے اور قارن کے حلال ہونے کا وقت
حدیث نمبر: 755
755 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:38] فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَميعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِى رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِى وَأَهِلِّى بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: هذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوافًا وَاحِدًا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذيِنَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوافًا وَاحِدًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہیے، ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا۔“ میں بھی مکہ آئی تھی، اس وقت میں حائضہ ہو گئی، اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی، میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر کھول ڈال، کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا، میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا (اور عمرہ ادا کیا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے (جسے تم نے چھوڑ دیا تھا)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے (حجۃ الوداع میں) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ بیت اللہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے، پھر منی سے واپس ہونے پر دوسرا طواف (یعنی طواف الزیارۃ) کیا، لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج 31 باب كيف تهل الحائض والنفساء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 755 in Urdu