اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
376. باب بيان وجوه الإحرام وأنه يجوز إِفراد الحج والتمتع والقران وجواز إِدخال الحج على العمرة، ومتى يحل القارن من نسكه
باب: احرام کی قسموں کا بیان حج مفرد۔ تمتع اور قران اور عمرے کے ساتھ حج کو شامل کیا جا سکتا ہے اور قارن کے حلال ہونے کا وقت
حدیث نمبر: 757
757 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: مَا لَكِ، أَنُفِسْتِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّ هذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِى مَا يَقْضِى الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی اور اس رنج میں رونے لگی۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟ کیا حائضہ ہوگئی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 1 باب كيف كان بدء الحيض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 757 in Urdu