اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
394. باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة، وفي الطواف الأول في الحج
باب: طواف عمرہ اور حج کے طواف اول میں رمل مستحب ہے
حدیث نمبر: 795
795 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (عمرہ القضاء 7ھ میں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہارِ قوت ہو) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسبِ معمول چلیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں، اس لیے کہ ان پر آسانی ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 795]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 55 باب كيف كان بدء الرمَل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 795 in Urdu