اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
403. باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إِلى منى في أواخر الليل قبل زحمة الناس، واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو مزدلفہ سے سویرے روانہ کرنا مستحب
حدیث نمبر: 812
812 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتْ امْرَأَةً بَطِيئَةً، فَأَذِنَ لَهَا؛ فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ؛ فَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے ازدحام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھی، وہ بھاری بھرکم بدن کی خاتون تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، چنانچہ وہ ازدحام سے پہلے روانہ ہو گئیں لیکن ہم لوگ وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، اگر میں بھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدَّم ضعفة أهله بليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 812 in Urdu