اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب استحقاق الوالي الغاش لرعيته النار
باب: جو حاکم رعایا کے حقوق میں خیانت کرے اس کے لیے جہنم ہے
حدیث نمبر: 86
86 صحيح حديث مَعْقِلِ بْنِ يَسارٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيادٍ عادَهُ في مَرَضِهِ الَّذي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَديثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ما مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعاهُ اللهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْها بِنَصيحَةٍ إِلاّ لَمْ يَجِدْ رائِحَةَ الْجَنَّةِ
عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے اس مرض میں آئے جس میں ان کا انتقال ہوا تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 8 باب من استرعى رعية فلم ينصح»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا معقل بن یسار المزنی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو علی تھی۔ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ بصرہ میں قیام پذیر رہے۔ بصرہ کی نہر معقل ان کی طرف منسوب ہے۔ سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے آخر تک رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کی ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 86 in Urdu