اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
436. باب في المدينة حين يتركها أهلها
باب: مدینہ میں رہنے کی فضیلت جب لوگ مدینہ سے کوچ کر رہے ہوں
حدیث نمبر: 877
877 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ لاَ يَغْشَاهَا إِلاَّ الْعَوَافِ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ وَآخِر مَنْ يَحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ، يَنْعَقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مدینہ کو بہتر حالت میں چھوڑ جاؤ گے، پھر وہ ایسا اجاڑ ہو جائے گا کہ وہاں وحشی جانور، درندے اور پرندے بسنے لگیں گے، اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینہ آئیں گے تاکہ اپنی بکریوں کو ہانک لے جائیں، لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے، یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 5 باب من رغب عن المدينة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 877 in Urdu