🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
440. باب لا تشد الرحال إِلا إِلى ثلاثة مساجد
باب: سفر صرف تین مسجدوں کی طرف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
882 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصى
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں (یعنی سفر نہ کیا جائے): ایک مسجدِ حرام، دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد اور تیسری مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 882]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 1 باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة»
وضاحت: اب جو عوام اجمیر اور پاک پتن وغیرہ وغیرہ مزارات کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں، یہ ارشاد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے کی وجہ سے عاصی،نافرمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ٹھرتے ہیں۔ ہاں قبور مسلمین اپنے شہر یا قریہ میں ہوںوہ اپنوں کی ہو یا بیگانوں کی،وہاں مسنون طریقہ پر زیارت کرنا مشروع ہے کہ قبرستان والوں کے لیے دعائے مغفرت کریں اور اپنی موت کو یاد کرکے دنیا سے بے رغبتی اختیار کریں اور سنت طریقہ صرف یہی ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 882 in Urdu