اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
473. باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها وأنه لو خالف وقع الطلاق ويؤمر برجعتها
باب: حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو طلاق ہو جائے گی لیکن اسے رجوع کا حکم دیا جائے گا
حدیث نمبر: 936
936 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرْه فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ؛ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی (آمنہ بنت غفار) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (حالتِ حیض میں) طلاق دے دی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور پھر اپنے نکاح میں باقی رکھیں، جب ماہواری (حیض) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں، (لیکن طلاق اس طہر میں) ان کے ساتھ ہم بستری سے پہلے ہونی چاہیے؛ یہی (طہر کی) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 936]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 1 باب قول الله تعالى (يأيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن وأحصوا العدة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 936 in Urdu