🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
474. باب وجوب الكفارة على من حرّم امرأته ولم ينو الطلاق
باب: جس نے اپنی عورت سے طلاق کی نیت کے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو اس پر کفارہ واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 939
939 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لَهُ ذلِكَ؛ فَقَالَ: لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ (يأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ) إِلَى (إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ) لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے، چنانچہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے مل کر صلاح کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے یہاں بھی تشریف لائیں تو یہ کہا جائے کہ آپ کے منہ سے «مَغَافِيرُ» (ایک خاص قسم کی بدبودار گوند) کی بو آتی ہے، کیا آپ نے «مَغَافِيرُ» کھایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ہم میں سے ایک کے یہاں تشریف لائے تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیا ہے، اب دوبارہ نہیں پیوں گا“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے“ یہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف خطاب ہے، اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] میں لفظِ حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمانا مراد ہے کہ ”میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 939]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 8 باب لم تحرم ما أحل الله لك»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 939 in Urdu