🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
479. باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة، وتحريمه في غير ذلك إِلا ثلاثة أيام
باب: اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے سوگ واجب ہے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 951
951 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ، إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا، لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا، ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں، نہ خوشبو، اور «الْعَصْبُ» ”عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی)“ کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں، اور ہمیں (عدت کے دنوں میں) حیض کے غسل کے بعد «قُسْطُ أَظْفَارٍ» ”کست اظفار“ استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 12 باب الطيب للمرأة عند غسلها من المحيض»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 951 in Urdu