اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
486. باب فضل العتق
باب: بردہ آزاد کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 964
964 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَءًا مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَاللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے بھی کبھی کسی مسلمان (غلام) کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے اس شخص کے جسم کے بھی ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کرے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب العتق/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 1 باب ما جاء في العتق وفضله»
وضاحت: امام خطابی فرماتے ہیں کہ بعض علماء کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ آزاد کردہ غلام کامل اعضاء والا ہونا چاہیے۔ لنگڑا، بھینگا یا ٹنڈا منڈا نہ ہو تاکہ آزاد کرنے والے کو قیامت کے دن جہنم سے پورے جسم کے ساتھ آزادی حاصل ہو۔(مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 964 in Urdu