المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کا بیان
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" حَضَرْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ: " قَدْ قَضَيْتُمُ الصَّلاةَ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيَجْلِسْ لِلْخُطْبَةِ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ" .
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں شامل ہوا، فرمایا: نماز پوری ہو چکی ہے، جو خطبہ (سننے) کے لیے بیٹھنا چاہتا ہے، بیٹھا رہے اور جو جانا چاہتا ہے، چلا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 1151، سنن النسائي: 1572، سنن ابن ماجه: 1290، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1462) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/295) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 264 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن السائب المخزومي