یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي بِالْبَقِيعِ فِي رَمَضَانَ إِذَا رَجُلٌ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص پچھنا لگوا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصيام/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 277/5، 280، 282، 283، سنن أبي داود: 2367، سنن ابن ماجه: 1680، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1963) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3532) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (427/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 386 in Urdu
عمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي