المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أبي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: " كُلْهَا، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُلْهَا بِأَمْرِي، قُلْتُ: صَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
عبدالرحمن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجھو (ایک قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا میں اسے کھاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 297/3، 318، 322، سنن أبي داود: 3801، سنن النسائي: 2839، سنن الترمذي: 851، سنن ابن ماجه: 3236، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2626) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3965) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 438 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد الله القس ← جابر بن عبد الله الأنصاري