المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. في طهارة الماء والقدر الذي ينجس ولا ينجس
پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَلانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالا: ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَال: ثَنَا عُتْبَةُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّباب فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ يَطْرَحْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الآخَرِ شِفَاءً" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے، تو اسے مکمل طور پر اس میں ڈبو دینا چاہیے، پھر نکال کر پھینک دے، کیوں کہ اس کے ایک پَر میں زہر (بیماری) اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 55]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3320»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح البخاري
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 55 in Urdu
عبيد بن حنين الطائي ← أبو هريرة الدوسي