المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
سود کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْهُ" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے تر کھجوروں کے بدلے خشک کھجوریں خریدنے کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا: ”کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: موطأ الإمام مالك: 624/2، مسند الإمام أحمد: 175/1، سنن أبي داود: 3359، سنن النسائي: 4549، سنن الترمذي: 1225، سنن ابن ماجه: 2264، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4997) اور امام حاکم رحمہ اللہ (38/2، 39) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 657 in Urdu
زيد بن عياش الزرقي ← سعد بن أبي وقاص الزهري