🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. ما قالوا فيه: إذا (واقع) امرأته في رمضان
اگر کوئی آدمی روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9879 ترقیم الشثری: -- 10048
١٠٠٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد عن ابي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: هلكت قال:"وما اهلكك؟" قال: ⦗١٣٢⦘ وقعت على امراتي في رمضان قال:"اعتق رقبة"، قال: لا اجد. قال:"فصم شهرين". قال: لا استطيع، قال:"فاطعم ستين مسكينا". قال: لا اجد قال:"اجلس" فجلس، (فبينا) (١) هو كذلك إذ (اتي) (٢) رسول الله ﷺ (بعرق) (٣) فيه تمر، فقال له النبي ﷺ:"اذهب فتصدق به" فقال: والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها اهل بيت افقر إليه منا. قال: فضحك رسول الله ﷺ حتى بدت (انيابه) (٤) ثم قال:"انطلق فاطعمه عيالك" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ز]: (فبينما).
(٢) في [هـ]: (أوتي).
(٣) في [هـ]: (بفرق).
(٤) في [أ، و]: (أسنانه).
(٥) صحيح، أخرجه البخاري (٦٧٠٩) ومسلم (١١١١).

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابن عيينة ، عن الزهري ، عن حميد ، عن ابي هريرة ، قال:" جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هلكت، قال: وما اهلكك؟ قال: وقعت على امراتي في رمضان، قال: اعتق رقبة، قال: لا اجد، قال: فصم شهرين، قال: لا استطيع، قال: فاطعم ستين مسكينا، قال: لا اجد، قال: اجلس، فجلس، فبينما هو كذلك إذ اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اذهب فتصدق به، فقال: والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها اهل بيت افقر إليه منا، قال: فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت انيابه، ثم قال: انطلق فاطعمه عيالك" ,
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں ہلاک ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا کہ رمضان میں، میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو۔ اس نے کہا میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دو مہینے روزے رکھو۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ نے اسے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اور اسے صدقہ کردو۔ اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، مدینہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان مجھ سے زیادہ نادار گھر کسی کا نہیں۔ اس کی یہ بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گھر والوں کو یہ کھلا دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 10048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10048، ترقيم محمد عوامة 9879)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 10048 in Urdu