مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
51. من قال ليس على غاسل الميت غسل
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اسکو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
ترقیم عوامۃ: 11251 ترقیم الشثری: -- 11468
١١٤٦٨ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن الجعد عن عائشة بنت سعد (قالت) (١) : (اؤذن) (٢) سعد بجنازة (سعيد) (٣) بن (زيد) (٤) وهو بالبقيع فجاء وغسله وكفنه وحنطه ثم اتى (داره) (٥) (فصلى) (٦) عليه ثم دعا (بماء) (٧) (فاغتسل) (٨) ثم قال: إني لم اغتسل من غسله ولو كان نجسا ما غسلته، ولكني اغتسلت من الحر (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال)، وكذا في [ز].
(٢) في [ز]: (أذن).
(٣) في [هـ، ب]: (سعد).
(٤) في [ز]: (يزيد).
(٥) في [ز]: (داراه).
(٦) في [ص]: (فصل).
(٧) سقط من: [ز].
(٨) في [ز]: (فاغسل).
(٩) صحيح.
حدثنا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن الجعد، عن عائشة بنت سعد، قالت: اوذن سعد بجنازة سعيد بن زيد وهو بالبقيع، فجاء وغسله وكفنه وحنطه، ثم اتى داره فصلى عليه، ثم دعا بماء فاغتسل، ثم قال: " إني لم اغتسل من غسله ولو كان نجسا ما غسلته، ولكني اغتسلت من الحر"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد کو حضرت سعید بن زید کے جنازے پر بلایا گیا وہ بقیع کے ساتھ تھے، آپ تشریف لائے اور آپ نے ان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور پھر ان کو خوشبو لگائی، پھر آپ تشریف لائے اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور انکے بعد پانی منگوا کر غسل فرمایا اور ارشاد فرمایا: میں نے اس لیے غسل نہیں کیا کہ میں نے میت کو غسل دیا تھا، اگرچہ جس کو غسل دیا تھا وہ ناپاک ہی کیوں نہ ہو، بلکہ میں تو گرمی کی وجہ سے نہایا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11468]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11468، ترقيم محمد عوامة 11251)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 11468 in Urdu